29/05/2023

ہم سے رابطہ کریں

کراچی :ایڈمنسٹریٹر فشرمینزکوآپریٹوسوسائٹی زاہد ابراہیم بھٹی نے بھارتی سکیورٹی فورسیز کی جانب سے پاکستانی ماہی گیروں کی پاکستانی سمندری حدود سے گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ماہی گیراپنے بچوں کیروزی روٹی کے لیے سمندر میں مچھلیوں کے شکار کے لیے جاتے ہیں۔مگرطاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی مانند دہشت گرد بھارتی سکیورٹی فورسیز انہیں پاکستانی سمندری حدود سے گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں ڈال دیتی ہے۔اور انہیں بغیر عدالتی کارروائی کے ماہی گیر کے بجائے دہشت گردقرار دے دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ایڈمنسٹریٹر زاہد ابراہیم بھٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے ماہی گیروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر فوری نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی فورسیز نے پاکستانی ماہی گیروں کی بلاجواز گرفتاریاں بند نہ کیں تو ماہی گیر برادری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ایڈمنسٹریٹر زاہد ابراہیم بھٹی نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی ماہی گیر عالمی ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے اقوام متحدہ اور بھارتی قونصل خانے کا گھیراوء کر سکتے ہیں۔ایڈمنسٹریٹر زاہد ابراہیم بھٹی نے کہا کہ پاکستانی ماہی گیر برادری وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت کے پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ دہشت گردانہ رویئے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان گرفتار ہندوستانی ماہی گیروں کوباعزت طریقے سے رہا کرتا ہے۔جبکہ دہشت گرد بھارتی حکومت ہمیں پاکستانی ماہی گیروں کی لاشوں کے تحفے بھیج رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کی پالیسی میں کچھ بدلاوء لانا ہوگا۔ایڈمنسٹریٹر زاہد ابراہیم بھٹی نے کہا کہ ہماری حکومت ایک سال میں جذبہء خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300بھارتی ماہی گیروں کو باعزت طور پر رہا کر دیتی ہے۔اور بدلے میں بھارتی حکومت نے چند زہنی طور پر معذور ماہی گیر اور ماہی گیروں کی لاشیں پاکستان روانہ کر نا وطیرہ بنا لیا ہے۔جوکہ ناقابل قبول عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستانی حدود سے گرفتار ہونے والے ماہی گیروں کو کوئی تکلیف پہنچے۔مگر ہم یہ بھی چاہتے ہیں۔کہ ہمارے پاکستانی ماہی گیروں کو بھی بھارتی انسانیت سوز مظالم سے چھٹکارہ ملنا چاہئے۔پاکستانی ماہی گیر برادری پرامن قوم ہے۔عالمی برادری کوپاکستانی ماہی گیروں کے خلاف بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نوٹس لینا ہو گا۔

Share            News         Social       Media