29/05/2023

ہم سے رابطہ کریں

کراچی :ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چمن بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات بحال کی جا سکیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ چمن بارڈر ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہے؛ جبکہ طورخم بارڈر کے ذریعے تجا رتی سر گرمیاں جاری ہیں۔میاں ناصر حیات مگوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ایس ایم ایز پہلے ہی مختلف چیلینجز سے نبردآزما ہیں جیسا کہ کرونا، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، خطے میں عدم استحکام، پیٹر ولیم مصنوعات اور لاجسٹکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ٹیکسیشن حکام کی بے جا مداخلت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کم سے کم یہ کر سکتی ہے کہ تاجروں کو ان معاملات میں سہولت فراہم کی جائے جہاں یہ زیادہ کوشش کے بغیر ممکن ہو۔میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں سرحدی تجارت کا کل تجا رت میں 70 فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سرحدی تجارت کے لیے پاکستان میں ہمیشہ حکومتی حمایت اور سہولیات کا فقدان رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چمن بارڈر کی بندش صرف تاجر برادری کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان چمن بارڈر کو بغیر کسی تاخیر کے دوبارہ کھولنے پر غور کرے تاکہ چمن بارڈر پر انحصار کرنے والے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو افغانستان کے ساتھ تجارتی بندش کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برادر ملک کو انسانی بحران سے بچنے کے لیے پاکستان سے بنیادی اشیائے خوردونوش کی فراہمی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ناصر خان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سرحد کے دونوں جانب لاکھوں ڈالر مالیت کے تازہ پھلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش میں مہنگائی بھی ہو رہی ہے؛ کیونکہ چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی تجارت کے لیے اہم تر ین راستہ ہے۔پاکستانی تاجروں کو ہونے والے نقصانات کی نشان دہی کرتے ہو ئے ناصر خان نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو یومیہ 100 ملین روپے تک کا ناقابل برداشت نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اپنی گفت وشنید کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد مسئلے کے حل اور آپریشنل میکانزم تک پہنچا جا سکے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو موجودہ حالات کی وجہ سے افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا کو تیزی سے پر کرنا چاہیے اور افغانستان کو اپنی برآمدات کو متناسب اور پائیدار طور پر بڑھانا چاہیے اور دوسرے علاقائی اور جغرافیائی طور پر ملحق ممالک کے ساتھ صحتمندانہ مقابلہ کرنا چاہیے۔انہو ں نے مزید کہاکہ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستانی برآمد کنندگان حکام کی بے عملی اور تاخیری حربوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتے رہے ہیں اور ہمیں اس بار پچھلی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔

Share            News         Social       Media